دنیا کی هر اهم چیز اپنی اهمیت کے پیش نظر خطرات کی زدمیں بھی هے عقیده مهدویت که جو انسانی فردی اور اجتماعی زندگی کے لیے حیات بخش هےایک باعظمت مستقبل کی نوید هے اور لوگوں کو ظلم و ستم کے مدمقابل حوصله اور صبر کیقوت دیتا هے یقینا یه بھی مختلف اندرونی وبیرونی خطرات کی زد میں هے –
هم یهاں زمانه غیبت میں اس عقیده کو لاحق ممکنه خطرات کےبارے میں گفتگو کریں گے –
۱)کلمه انتظار فرج سے علط مطلب نکالنا:
پهلیقسط
بعض لوگ امام کے ظهور اور فرج کی دعا میں انتظار فرج سےمراد معمولی حد تک امر بالمعروف و نهی عنالمنکر مراد لیتے هیں اس سے بڑھ کر اپنےلیے کوئ ذمه داری نهیں سمجھتے –
جبکه بعض دیگر معمولی حد تک بھی امر بالمعروف و نهی عنالمنکر کے قاﺋل نهیں هیں بلکه انکا نظریه هے که غیبت کے زمانه میں هم کچھ نهیںکرسکتے اور نه هماری کوئ ذمه داری هے امام زمانه جب ظهور کریں گے تو خود سب امورکی اصلاح فرماﺋیں گے –
ایک گروه کا نظریه هے که لوگوں کو انکے حال پر چھوڑ دیناچاهے جو چاهیں کریں جب ظلم و فساد بڑھے گا تو امام ظهور کریں گے-
ایک چوتھا گروه انتظار کی یه تفسیر کرتا هے که نه صرف یه که لوگوں کو گناه کرنے سےنه روکیں بلکه خود بھی گناه کرو تاکه امام کا ظهور جلد هو-
انهی لوگوں میں سے بعض یه کهتے هیں که زمانه غیبت میں هر حکومت کسی بھی شکل میں هوباطل هے اسلام و شریعت کے خلاف هے کیونکهروایات میں یه آیا هے که قاﺋم کے ظهور سے پهلے هر علم اور پرچم باطل هے-
ایسےنظریات کے نتاﺋج:
۱)اپنییا معاشره کی موجوده غلط صورت حال پر قانع هونا اور بهتر وضیعت کےلیے کوشش نه کرنا–
۲)پسماندگی
۳)اغیار کی غلامی
۴)نا امید هونا اور جلد شکست قبول کرنا
۵)حکومت اور ملک کا کمزور هونا
۶)ظلمو ستم کا وسیع هونا اور اس کے مد مقابل سست رد عمل
۷)ذاتی اور اجتماعی زندگی میں ذات اور بد بختی کو قبول کرنا
۸)سست اور غیر ذمه دار هونا
۹)امام کے قیام اور اقدامات کو مشکل بنانا چونکه جتنا فساد اور تباهی زیاده هوگیامام کا س سے مقابله اتنا هی سخت اور طولانی هوگا
۱۰)بهت سی آیات اور روایات پر عمل درآمد نه هونا یعنی وه آیات و روایات جو امربالمعروف و نهی عن المنکر ٬سماجی تربیت اور سیاست کے حوالے سے راهنما هیں ٬کفاراور مشرکین کے ساتھ طر ز عمل دیت ٬حدود تعزیرات اور محروم لوگوں کے دفاع کے حوالےهیں-